فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا: ایک تحقیقی جائزہ

مسئلہ کا پس منظر اور اس کی سنگینی

برصغیر میں فرض نماز کے بعد اجتماعی اور بلند آواز میں دعا کرنا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ اکثر لوگ اسے نماز کا لازمی حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ حالانکہ دین میں کسی بھی عمل کی اصل بنیاد دلیل اور فہم پر ہوتی ہے، نہ کہ محض رواج اور تقلید پر۔

یہ سانتہائے تحقیق کے ساتھ جاننا ضروری ہے کہ دعا کا اصل مقام نماز کے اندر ہے یا نماز کے بعد؟ اور کیا اجتماعی دعا کا وہ طریقہ جس سے دوسروں کی نماز متاثر ہوتی ہے، شرعی اعتبار سے درست ہے؟

اصل اصول: عبادت کا ہر وہ طریقہ جسے لازم سمجھ لیا جائے، بغیر اس کے کہ اس کی کوئی شرعی دلیل ہو، بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔

دعا کا مقام اور اہمیت

اسلام میں دعا کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ یہ بندے اور اللہ کے درمیان براہِ راست تعلق کا اظہار ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا کو عبادت کی روح قرار دیا ہے۔ نماز خود اسی تعلق کی سب سے واضح شکل ہے، اس لیے نماز کے اندر دعا کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

نماز کے اندر دعا کے مقامات

نماز کے مختلف ارکان میں دعا ثابت ہے، جیسا کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے:

  • سجدے میں دعا - سجدہ بندہ اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے
  • دونوں سجدوں کے درمیان - "رب اغفر لی" کی دعا
  • تشہد کے بعد - درود ابراہیم اور چار چیزوں سے پناہ مانگنا
  • رکوع کے بعد - "ربنا لک الحمد" کے بعد دعا

بالفاظِ دیگر یوں کہا جا سکتا ہے کہ نماز کے اندر دعا کرنا عبادت کی روح کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ اس وقت بندہ مکمل توجہ اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوتا ہے۔

نماز کے بعد دعا: مسئلہ کہاں پیدا ہوتا ہے؟

نماز کے بعد دعا کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں ہے۔ ہر مسلمان کسی بھی وقت اللہ سے دعا کر سکتا ہے۔ مسئلہ دراصل درج ذیل تین صورتوں میں پیدا ہوتا ہے:

  • اول: اسے لازمی اور نماز کا جزو سمجھ لیا جائے
  • دوم: اجتماعی اور بلند آواز میں کیا جائے
  • سوم: اس سے پیچھے رہ جانے والے نمازیوں کی نماز متاثر ہو

خلاصہ کلام: جب کوئی عمل دلیل کے بجائے دباؤ یا روایت کے تحت کیا جائے تو وہ عبادت کے بجائے ایک رسم بن جاتا ہے۔

بلند آواز دعا اور نمازیوں کو تکلیف

بعض مساجد میں فرض نماز کے فوراً بعد اتنی بلند آواز سے دعا شروع کر دی جاتی ہے کہ جو لوگ ایک یا دو رکعت پیچھے رہ گئے ہوں، وہ خشوع کے ساتھ نماز ادا نہیں کر پاتے۔ شور اور آواز کی وجہ سے توجہ بٹتی ہے اور بعض اوقات نماز میں بھول بھی ہو جاتی ہے۔

اسلام عبادت میں دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کی نماز میں خلل ڈالنا معمولی بات نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہماری نماز میں خلل ڈالا، اس نے ہم پر ظلم کیا۔"

عالمی اسلامی منظرنامہ: ایک تقابلی جائزہ

اگر عرب ممالک، ترکی، ملائیشیا اور دیگر مسلم معاشروں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں فرض نماز کے بعد اجتماعی اور بلند آواز دعا کا عمومی رواج نظر نہیں آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہاں دعا کی اہمیت کم ہے، بلکہ وہاں دعا کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جاتا ہے۔

یہ فرق ہمیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ آیا ہم دین کو روایت اور تقلید کے ذریعے سمجھ رہے ہیں یا دلیل اور سنت کی روشنی میں۔

علامہ ابن قیمؒ کا قیمتی موقف

علامہ ابن قیمؒ اس نکتے پر ایک ایسی مثال دیتے ہیں جو آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

"نماز کے اندر دعا نہ مانگنا اور نماز کے بعد (اجتماعی طور پر) مانگنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص بادشاہ کے دربار میں پہنچ جائے، بادشاہ کے بالکل سامنے کھڑا ہو، مگر وہاں خاموش رہے، اور جب دربار سے باہر نکلے تو وہاں کھڑے ہو کر مانگنا شروع کر دے۔"

اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت

مسئلہ دعا کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس خاص طریقے (ہیئت) کا ہے جسے ہم نے لازم پکڑ لیا ہے۔ علامہ ابن قیمؒ اس رواج کی تردید کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں لکھتے ہیں:

"وأما الدعاء بعد السلام من الصلاة مستقبل القبلة أو المأمومين، فلم يكن ذلك من هديه أصلا، ولا روي عنه بإسناد صحيح ولا حسن"

ترجمہ: "اور رہا نماز کے سلام کے بعد قبلہ رخ ہو کر یا مقتدیوں کی طرف رخ کر کے (اجتماعی) دعا مانگنا، تو یہ آپ ﷺ کی ہدایت (سنت) سے اصلاً ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس بارے میں کوئی صحیح یا حسن سند کے ساتھ روایت منقول ہے۔"

(زاد المعاد، جلد 1، صفحہ 397)

شرعی اور متوازن طریقہ کار

تحقیق و تنقید کے بعد متوازن اور درست طریقہ کار یہ ہے:

  • اول: نماز کے اندر مسنون دعاؤں کا اہتمام کیا جائے
  • دوم: نماز کے بعد انفرادی طور پر دعا کی جائے
  • سوم: دعا آہستہ آواز میں ہو تاکہ دوسروں کے لیے تکلیف یا خلل کا سبب نہ بنے
  • چہارم: کسی بھی عمل کو بغیر دلیل کے لازم نہ سمجھا جائے

یہ طریقہ نہ صرف سنت کے قریب ہے بلکہ عبادت کے اصل مقصد سے بھی ہم آہنگ ہے۔

نتیجہ: روایت اور سنت میں فرق

اصل مسئلہ دعا کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کے مقام اور طریقے کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو رواج پایا جاتا ہے وہ نہ تو سنت سے ثابت ہے اور نہ ہی عبادت کے مقصد کے مطابق ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نمازیں واقعی روح کو زندہ کریں تو ہمیں عبادت کو رسم کے بجائے شعور کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔

عبادت کا حسن خاموشی، توجہ اور عاجزی میں ہے، نہ کہ شور اور دباؤ میں۔ جب ہم رواج اور سنت میں فرق کرنا سیکھ لیں گے تو بہت سے غیر ضروری اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔

اللہ ہمیں عبادات کو سنت کے مطابق ادا کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

1 تبصرہ:

Responsive Ads Here
اس علمی تحریر کو دوسروں تک پہنچائیں:
واٹس ایپ فیس بک لنکڈ ان ٹویٹر ٹک ٹاک