Breaking

پیر، 5 جون، 2023

برصغیر میں فرض نماز کے بعد اجتماعی اور بلند آواز دعا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ اکثر لوگ اسے نماز کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں، اور اگر کوئی اس عمل پر سوال اٹھائے تو اسے ناپسند کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دین میں کسی بھی عمل کی اصل بنیاد دلیل اور فہم پر ہوتی ہے، نہ کہ محض رواج پر۔یہ سوال اہم ہے کہ دعا کا اصل مقام نماز کے اندر ہے یا نماز کے بعد؟ اور کیا اجتماعی دعا اس انداز میں کرنا جس سے دوسروں کی نماز متاثر ہو، درست ہے؟

دعا کی اصل اہمیت اور مقام

اسلام میں دعا کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ یہ بندے اور اللہ کے درمیان براہِ راست تعلق کا اظہار ہے۔ نماز خود اسی تعلق کی سب سے واضح شکل ہے، اس لیے نماز کے اندر دعا کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

نماز کے مختلف ارکان میں دعا ثابت ہے، جیسے:

سجدے میں دعا

دونوں سجدوں کے درمیان دعا

تشہد کے بعد دعا

رکوع کے بعد دعا

بالفاظِ دیگر یوں کہا جا سکتا ہے کہ نماز کے اندر دعا کرنا عبادت کی روح کے زیادہ قریب ہے، کیونکہ اس وقت بندہ مکمل توجہ اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے ہوتا ہے۔

نماز کے بعد دعا: مسئلہ کہاں پیدا ہوتا ہے؟

نماز کے بعد دعا کرنا بذاتِ خود ممنوع نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب:

اسے لازمی سمجھ لیا جائے

اجتماعی اور بلند آواز میں کیا جائے

اس سے پیچھے رہ جانے والے نمازیوں کی نماز متاثر ہو

آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب کوئی عمل دلیل کے بجائے دباؤ یا روایت کے تحت کیا جائے تو وہ عبادت کے بجائے ایک رسم بن جاتا ہے۔

بلند آواز دعا اور نمازیوں کو تکلیف

بعض مساجد میں فرض نماز کے فوراً بعد اتنی بلند آواز سے دعا شروع کر دی جاتی ہے کہ أوہ لوگ جو ایک یا دو رکعت پیچھے رہ گئے ہوں، خشوع کے ساتھ نماز ادا نہیں کر پاتے۔ شور اور آواز کی وجہ سے توجہ بٹتی ہے اور بعض اوقات نماز میں بھول بھی ہو جاتی ہے۔

اسلام عبادت میں دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کی نماز میں خلل ڈالنا معمولی بات نہیں، خاص طور پر اس شخص کے لیے جو امامت کی ذمہ داری نبھا رہا ہو۔

دوسرے مسلم معاشروں کا طرزِ عمل

اگر عرب ممالک اور دیگر مسلم معاشروں کو دیکھا جائے تو وہاں فرض نماز کے بعد اجتماعی اور بلند آواز دعا کا عمومی رواج نظر نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں دعا کی اہمیت کم ہے، بلکہ وہاں دعا کو اس کے مناسب مقام پر رکھا جاتا ہے۔

یہ فرق ہمیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم دین کو روایت کے ذریعے سمجھ رہے ہیں یا دلیل اور سنت کی روشنی میں۔

متوازن اور درست طریقہ کیا ہے؟

درست اور متوازن طریقہ یہ ہے کہ:أأأ

نماز کے اندر مسنون دعاؤں کا اہتمام کیا جائے

نماز کے بعد انفرادی دعا کی جائے

دعا آہستہ آواز میں ہو

دوسروں کے لیے تکلیف یا خلل کا سبب نہ بنے

یہ طریقہ نہ صرف سنت کے قریب ہے بلکہ عبادت کے مقصد سے بھی ہم آہنگ ہے۔

نتیجہ

اصل مسئلہ دعا کا نہیں، بلکہ اس کے مقام اور طریقے کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نمازیں واقعی روح کو زندہ کریں تو ہمیں عبادت کو رسم کے بجائے شعور کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔

عبادت کا حسن خاموشی، توجہ اور عاجزی میں ہے، نہ کہ شور اور دباؤ میں۔ جب ہم رواج اور سنت میں فرق کرنا سیکھ لیں گے تو بہت سے غیر ضروری اختلافات خود بخود ختم ہو جائیں گے

علامہ ابن قیمؒ اس نکتے پر ایک ایسی مثال دیتے ہیں جو آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

"نماز کے اندر دعا نہ مانگنا اور نماز کے بعد (اجتماعی طور پر) مانگنا ایسا ہے جیسے کوئی شخص بادشاہ کے دربار میں پہنچ جائے، بادشاہ کے بالکل سامنے کھڑا ہو، مگر وہاں خاموش رہے، اور جب دربار سے باہر نکلے تو وہاں کھڑے ہو کر مانگنا شروع کر دے۔"

اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت

مسئلہ دعا کرنے کا نہیں، بلکہ اس خاص طریقے (ہیئت) کا ہے جسے ہم نے لازم پکڑ لیا ہے۔ علامہ ابن قیمؒ اس رواج کی تردید کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں لکھتے ہیں:

وأما الدعاء بعد السلام من الصلاة مستقبل القبلة أو المأمومين، فلم يكن ذلك من هديه أصلا، ولا روي عنه بإسناد صحيح ولا حسن

"اور رہا نماز کے سلام کے بعد قبلہ رخ ہو کر یا مقتدیوں کی طرف رخ کر کے (اجتماعی) دعا مانگنا، تو یہ آپ ﷺ کی ہدایت (سنت) سے اصلاً ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی اس بارے میں کوئی صحیح یا حسن سند کے ساتھ روایت منقول ہے۔

زاد المعاد جلد 1 صفحہ 397

 

 

 

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Responsive Ads Here
Responsive Ads Here