الجامع الصافی: تدوینِ حدیث کا تجدیدی منصوبہ

علمِ حدیث شریعتِ اسلامی کا وہ عظیم الشان سرمایہ ہے جس پر ہماری تہذیب اور فہمِ دین کی عمارت کھڑی ہے۔ صدیوں سے محدثین کرام نے احادیث کی حفاظت کے لیے بے مثال خدمات سر انجام دیں۔ تاہم، موجودہ دور کے فکری چیلنجز، مستشرقین کے اعتراضات اور نو مسلموں کے ذہنی اضطراب کو دیکھتے ہوئے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم ذخیرہِ حدیث کو ایک ایسے مستحکم اصول پر پرکھیں جو خود خالقِ کائنات نے قرآنِ کریم میں وضع فرمایا ہے۔
اسی ضرورت کے پیشِ نظر ہم نے "الجامع الصافی" کے نام سے ایک منفرد علمی منصوبے کا آغاز کیا ہے، جو خبرِ واحد (بالخصوص خبرِ غریب) کے بجائے قرآن کے "معیارِ شہادت" پر مبنی ہوگا۔
1. بنیادی اصول: مقدارِ شہادت اور قرآنی قانون
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کسی بھی معاملے کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے ایک کم از کم معیار (Minimum Threshold) مقرر کیا ہے، جسے ہم "معیارِ شہادت" کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے:
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ (البقرۃ: 282)
"اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لیا کرو۔"
قرآن کا یہ اصول محض مالی معاملات کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ سچائی کو ثابت کرنے کا ایک عالمگیر الٰہی ضابطہ ہے۔ جب ایک معمولی دنیاوی لین دین یا حدود و تعزیرات میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرد کی تنہا گواہی کو ناکافی قرار دیا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایمانیات، عقائد اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت جیسے حساس معاملات میں ہم صرف ایک راوی (خبرِ غریب) کے بیان پر انحصار کر لیں؟ قرآن کہتا ہے کہ جب شہادت پوری نہ ہو، تو دعویٰ کرنے والے اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔
2. انسانی مغالطے اور لہجے کا فرق (عام فہم وضاحت)
انسان کتنا ہی سچا اور عادل کیوں نہ ہو، وہ نسیان (بھول)، وہم اور مغالطے سے پاک نہیں ہو سکتا۔ قرآن نے دو گواہوں کی حکمت یہی بیان کی ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسرا اسے یاد دلا دے۔
لہجے کے فرق کی مثال:
لفظ ایک ہی ہوتے ہیں لیکن لہجہ معنی بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جملہ ہے: "کیا بات ہے!"
* پہلا لہجہ (ڈانٹ): اگر سخت اور کرخت آواز میں کہا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کسی غلط کام پر سرزنش کی جا رہی ہے۔ یہاں کچھ پوچھا نہیں جا رہا بلکہ غصے کا اظہار ہے۔
* دوسرا لہجہ (سوال): اگر عام انداز میں پوچھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ حقیقتِ حال دریافت کی جا رہی ہے کہ "آخر معاملہ کیا ہے؟"
* تیسرا لہجہ (تحسین): اگر پیار اور جوش سے کہا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کسی کے اچھے کام کی ستائش کی جا رہی ہے کہ "واہ! کتنا زبردست کام کیا ہے!"
اب تصور کریں کہ اگر ایک تنہا راوی (واحد) نے صرف الفاظ سنے اور وہ لہجے کی اس نزاکت کو نہ سمجھ سکا، تو وہ حضور ﷺ کی مراد کے بالکل برعکس بات نقل کر سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم کم از کم دو راویوں کی شرط رکھتے ہیں تاکہ مغالطے کا امکان ختم ہو سکے۔
3. خبرِ غریب کی وجہ سے پیدا ہونے والے علمی و عقلی تضادات
جب سے خبرِ غریب (اکیلی روایت) کو قابلِ استدلال مانا گیا، ایسی روایات سامنے آئیں جو عقلِ سلیم، تاریخ اور شانِ نبوت کے خلاف محسوس ہوتی ہیں۔
الف: سیدہ عائشہؓ کی عمر کا مسئلہ
بخاری کی ایک روایت میں رخصتی کے وقت عمر 9 سال بتائی گئی ہے، جو صرف ایک ہی سلسلے سے مروی ہے۔ جبکہ بخاری ہی کی دوسری روایت (کتاب التفسیر) کے مطابق جب سورہ القمر نازل ہوئی تو حضرت عائشہؓ مکہ کی گلیوں میں بچوں کے ساتھ کھیلتی اور یہ آیات تلاوت کرتی تھیں۔ چونکہ سورہ القمر ابتدائی مکی دور کی سورت ہے، اس حساب سے ہجرت تک آپؓ کی عمر کسی صورت 9 سال نہیں بنتی بلکہ آپؓ جوان تھیں۔ مزید برآں، حضرت اسماءؓ (جو آپؓ سے 10 سال بڑی تھیں) کی عمر اور آپؓ کا میدانِ بدر میں موجود ہونا بھی ثابت کرتا ہے کہ 9 سال والی روایت میں راوی کو شدید مغالطہ ہوا ہے۔
ب: عظمتِ انبیاء پر حرف
* حضرت ابراہیم علیہ السلام: بخاری کی روایت میں آپؑ کی طرف "تین جھوٹ" منسوب کیے گئے، جو منصبِ نبوت کی عصمت کے خلاف ہے۔ ایک نبی جھوٹ سے پاک ہوتا ہے۔
* حضرت موسیٰ علیہ السلام: وہ روایات جن میں آپؑ کا غسل کے دوران کپڑے لے کر بھاگنے والے پتھر کو مارنا یا ملک الموت کو تھپڑ مار کر آنکھ نکال دینے کا ذکر ہے، یہ صرف ایک ہی راوی سے منقول ہیں اور انبیاء کے وقار کے منافی ہیں۔
* حضور ﷺ کی ذات: وہ روایات جن میں معاذ اللہ آپ ﷺ کے "پہاڑ سے گر کر خودکشی کی خواہش" کا تذکرہ ہے یا سورہ نجم کی تلاوت کے دوران "شیطان کے مغالطہ ڈالنے" (غرانیق کا قصہ) کا ذکر ہے، یہ حضور ﷺ کی عصمتِ وحی کے سراسر خلاف ہیں اور صرف خبرِ غریب ہونے کی وجہ سے کتب میں جگہ پا گئیں۔
ج: سیرتِ طیبہ اور سماجی روایات
* اسماء بنت نعمانؓ کا واقعہ: حضور ﷺ کی آخری عمر میں نکاح کا وہ واقعہ جس میں خاتون کا آپ ﷺ سے "پناہ مانگنا" مذکور ہے، یہ اللہ کے نبی ﷺ کی رحمت اور عظمت کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔
* نحوست کا تصور: حضرت سہل بن سعدؓ سے منسوب روایت کہ "نحوست عورت، گھر اور گھوڑے میں ہوتی ہے" اسلام کے تکریمِ نسواں کے تصور اور قرآنی تعلیمات کے صریحاً خلاف ہے۔
* سائنسی تضاد: سورج کا غروب ہو کر عرش کے نیچے سجدہ کرنا اور اگلے دن طلوع کی اجازت مانگنا، جدید فلکیاتی مشاہدات کے خلاف ہے۔ یہ "خبرِ غریب" نوجوان نسل میں الحاد کا سبب بن رہی ہے۔
* صحابہ کے اختلافات: حضرت مالک بن اوسؓ کی بیان کردہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت فاطمہؓ کے شدید اختلاف کی روایت بھی معیارِ شہادت (دو گواہ) پر پوری نہیں اترتی۔
4. "الجامع الصافی" کا منہج اور طریقہ کار
اس منصوبے کا مقصد کسی مستند کتاب کی تردید نہیں بلکہ تطہیرِ حدیث اور دفاعِ سنت ہے۔ ہم نے اس کام کے لیے درج ذیل اصول اپنائے ہیں:
* صرف معتبر اقسام کا انتخاب: اس کتاب میں صرف وہ احادیث شامل ہوں گی جو متواتر، مشہور (کم از کم 3 راوی) یا عزیز (کم از کم 2 راوی) ہوں۔
* خبرِ غریب کا اخراج: وہ تمام روایات جو کسی بھی مرحلے پر صرف ایک راوی پر منحصر ہیں، انہیں استدلال سے خارج کر دیا جائے گا، کیونکہ دین "یقین" کا نام ہے "ظن" (گمان) کا نہیں۔
5. ایک عالمی پکار: اہلِ علم کے لیے دعوتِ عمل (Call to Action)
الجامع الصافی محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک خالصتاً فلاحی اور علمی صدقہ جاریہ ہے۔ یہ منصوبہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے بالکل مفت دستیاب ہوگا، جسے ہماری ویب سائٹ سے نہ صرف پڑھا جا سکے گا بلکہ ڈاؤن لوڈ بھی کیا جا سکے گا۔
ہم اس عظیم علمی جدوجہد کو عالمی سطح پر پھیلانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہمیں دنیا بھر سے مخلص اور ماہر محققین کی ضرورت ہے۔
شمولیت کی دعوت:
ہم تمام ایسے اہلِ علم کو دعوت دیتے ہیں جو:
* اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل (M.Phil) یا پی ایچ ڈی (PhD) ڈگری ہولڈر ہوں۔
* تحقیق اور تدوینِ حدیث کے فن سے گہرا شغف رکھتے ہوں۔
* دنیا کی مختلف زبانوں (انگریزی، جرمن، فرانسیسی، ملائی وغیرہ) پر دسترس رکھتے ہوں تاکہ اس پراجیکٹ کو عالمی زبانوں میں منتقل کیا جا سکے۔
آپ کا حصہ اور اعزاز:
اس منصوبے میں تعاون کرنے والے ہر محقق کا باقاعدہ نام اور ان کے کام کی تفصیل متعلقہ کتاب کے حصے میں نمایاں طور پر درج کی جائے گی۔ یہ کام ان شاء اللہ:
* قیامت تک کے لیے آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوگا۔
* آپ کے والدین، اباؤ اجداد اور اساتذہ کے لیے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کا ذریعہ بنے گا۔
* آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کا وسیلہ بنے گا۔
دنیا بھر سے پی ایچ ڈی اسکالرز اور محققین، خواہ وہ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتے ہوں، اگر وہ اس علمی ذخیرے کی ترتیب، ترجمہ یا تحقیق میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، تو ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آئیے! اس عظیم مقصد میں ہمارا ہاتھ بٹائیں اور ایک ایسی علمی وراثت چھوڑ جائیں جو صدیوں تک مسلمانوں کے ایمان کی آبیاری کرتی رہے۔
رابطہ کریں اور اس صدقہ جاریہ کا حصہ بنیں!
صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالیں!
اس تحریر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ثوابِ دارین حاصل کریں کیونکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے "الدال علی الخیر کفاعلہ " جو دوسروں کو نیکی کی بات بتائے گا تو اسے بھی عمل کرنے والے برابر اجر و ثواب ملے گا۔
جزاک اللہ خیر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Responsive Ads Here
اس علمی تحریر کو دوسروں تک پہنچائیں:
واٹس ایپ فیس بک لنکڈ ان ٹویٹر ٹک ٹاک