نابالغ بچی کے نکاح میں والد کا اختیار: فقہی اختلافات کا تحقیقی جائزہ
تعارف: مسئلہ کی نوعیت اور اہمیت
فقہ اسلامی کے اہم ترین مباحث میں سے ایک یہ ہے کہ کیا والد کو اپنی نابالغ بچی کے نکاح کا ایسا مکمل اور غیر مشروط اختیار حاصل ہے جس میں لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد بھی کوئی اختیار حاصل نہ ہو؟ یہ مسئلہ صرف نظریاتی اہمیت کا حامل نہیں، بلکہ اس کے عملی اثرات مسلم معاشروں میں دور رس ہیں۔
اس مسئلے میں فقہاء کرام کے درمیان قدیم سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ اس مقالے میں ہم دونوں فریقوں کے دلائل کو غیر جانبدارانہ طور پر پیش کریں گے، ان کا تنقیدی جائزہ لیں گے، اور آخر میں ایک ایسی راہ تطبیق تجویز کریں گے جو شریعت کے مقاصد اور عصر حاضر کی ضروریات دونوں کا احترام کرتی ہے۔
مرکزی سوال: کیا والد کو اپنی نابالغ بچی پر ولایتِ اجبار حاصل ہے یا نہیں؟ اور اس ولایت کی حدود کیا ہیں؟
فریق اول: جمہور فقہاء کا موقف (ولایتِ اجبار کے قائل)
جمہور فقہاء کرام (حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ، اور حنابلہ میں سے مشہور قول کے مطابق) کے نزدیک والد کو اپنی نابالغ اولاد پر ولایتِ اجبار حاصل ہے۔ وہ بلوغت سے قبل ہی اپنی بچیوں کا اپنی مرضی سے نکاح کر سکتا ہے، اور اس کے بارے میں لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
فریق اول کے دلائل
جمہور فقہاء نے اپنے موقف کی تائید میں تین اہم دلائل پیش کیے ہیں:
- دلیل اول: واقعہ نکاح حضرت عائشہؓ - رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہؓ سے ان کی کم سنی میں نکاح کیا، اور یہ نکاح ان کی والدہ اور والد کی طرف سے ہوا۔ یہ واقعہ جمہور کے نزدیک نابالغ بچی کے نکاح کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔
- دلیل دوم: قرآن کریم کی آیت - "اور جن بچیوں نے نکاح نہ کیا ہو، ان کے بارے میں تم پر کوئی گناہ نہیں" (النساء: 23)۔ جمہور کے نزدیک اس آیت میں نابالغ بچیوں کے نکاح کی اجازت پوشیدہ ہے۔
- دلیل سوم: اجماع امت کا دعویٰ - جمہور فقہاء کے مطابق صحابہ کرام اور تابعین کے دور سے لے کر آج تک اس مسئلے پر اجماع ہے کہ والد کو اپنی نابالغ بچی کے نکاح کا اختیار حاصل ہے۔
فریق دوم: مخالف فقہاء کا موقف (ولایتِ اجبار کے منکر)
قاضی ابن شبرمہ، علامہ ابو بکر اصم، علامہ شیخ عثمان بتی، اور دور حاضر کے مشہور حنبلی عالم علامہ محمد بن صالح عثیمین رحمہم اللہ کے نزدیک والد کو اپنی نابالغ اولاد پر ولایتِ اجبار بالکل حاصل نہیں ہے۔ ان کے مطابق والد اپنے نابالغ بچے یا بچی کا بلوغت سے پہلے نکاح نہیں کر سکتا۔
فریق دوم کے دلائل (نو دلائل کا خلاصہ)
فریق دوم نے اپنے موقف کی تائید میں متعدد مضبوط دلائل پیش کیے ہیں:
- دلیل اول: قرآن کا عمومی اصول - "اور ان کے ساتھ بھلائی سے رہو" (النساء: 19) اور "انہیں نہ روکو اگر وہ اپنے شوہروں سے رضامند ہوں"۔ یہ آیات عورت کی رضامندی کو اہم قرار دیتی ہیں۔
- دلیل دوم: حدیث نبوی - "پہلے شادی شدہ عورت سے اس کی زبان کے بغیر (اجازت کے) نکاح نہ کیا جائے، اور کنواری سے اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے" (بخاری، مسلم)۔ یہ حدیث عورت کی اجازت کو شرط قرار دیتی ہے۔
- دلیل سوم: واقعہ نکاح حضرت عائشہؓ پر سوالات - فریق دوم کے مطابق حضرت عائشہؓ کا نکاح استثنائی صورت تھا، اسے عام قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ نیز ان کی عمر کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔
- دلیل چہارم: شریعت کا مقصد - شریعت کا اصل مقصد عورت کے مفاد کا تحفظ ہے، اسے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔
- دلیل پنجم: نابالغ کی عدم اہلیت - نابالغ لڑکی نکاح کے اہم فیصلے کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتی، اس لیے اس کی طرف سے کوئی بھی فیصلہ اس کی بھلائی کے لیے ہونا چاہیے۔
- دلیل ششم: عدالت کا کردار - بہت سے جدید ممالک میں عدالتیں نابالغ لڑکیوں کے نکاح کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں، جو اسلامی مقاصد کے خلاف نہیں۔
- دلیل ہفتم: تاریخی شواہد - تاریخ اسلامی میں نابالغ لڑکیوں کے نکاح کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں، اور وہ بھی خاص حالات میں تھیں۔
- دلیل ہشتم: معاشرتی مفاسد - نابالغ لڑکیوں کے نکاح سے معاشرتی مفاسد جنم لیتے ہیں، جیسے تعلیم سے محرومی، ذہنی اور جسمانی اذیت۔
- دلیل نہم: فقہی اصول - "ضرر کو زائل کیا جائے گا" کے فقہی اصول کے تحت وہ نکاح جس میں لڑکی کو نقصان ہو، ناجائز ہے۔
فریق اول کے دلائل کا تنقیدی جائزہ (دس وجوہات)
فریق دوم نے جمہور کے تینوں دلائل کو درج ذیل دس وجوہات کی بنا پر کمزور قرار دیا ہے:
- پہلی وجہ: واقعہ نکاح حضرت عائشہؓ ایک استثنائی صورت تھی، جیسا کہ خود آپ ﷺ نے متعدد نکاح صرف خاص مصالح کے تحت کیے۔
- دوسری وجہ: حضرت عائشہؓ کی عمر کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے۔ بعض کے مطابق ان کی عمر نکاح کے وقت 19 سال تھی۔
- تیسری وجہ: قرآن کی مذکورہ آیت میں نابالغ بچیوں کے نکاح کی کوئی صراحت نہیں، یہ صرف جمہور کا استنباط ہے۔
- چوتھی وجہ: اجماع کا دعویٰ قابلِ غور ہے، کیونکہ فریق دوم کے جتنے بھی فقہاء ہیں، وہ اس اجماع کا حصہ نہیں۔
- پانچویں وجہ: صحابہ کرام کے دور میں بھی نابالغ لڑکیوں کے نکاح کی مثالیں بہت محدود ہیں۔
- چھٹی وجہ: شریعت کا مقصد عورت کی عزت اور وقار کا تحفظ ہے، نہ کہ اسے نقصان پہنچانا۔
- ساتویں وجہ: جدید تحقیق کے مطابق کم سنی میں شادی سے لڑکیوں کو ذہنی اور جسمانی نقصانات پہنچتے ہیں۔
- آٹھویں وجہ: بیشتر ممالک میں نابالغ شادیوں پر پابندی نے معاشرتی مسائل کم کیے ہیں۔
- نویں وجہ: فریق اول کے نزدیک بھی لڑکی کی مصلحت کا خیال ضروری ہے، گویا وہ بھی غیر مشروط اختیار نہیں دیتے۔
- دسویں وجہ: حضرت عمرؓ نے بدلتے حالات میں متعدد احکامات میں تبدیلیاں کیں، اسی طرح اس مسئلے میں بھی تبدیلی ممکن ہے۔
قدر مشترک: مصلحت اور مفاد کا تحفظ
جب فریقین کے اقوال کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دونوں فریقوں کا مطمح نظر ایک ہی ہے: نابالغ لڑکی کے مفادات، مصلحتِ ظاہرہ، راجحہ اور معتبرہ کا تحفظ۔
فریق اول بھی والد کو اپنی اولاد کے نکاح کا غیر مشروط، کلی اور صوابدیدی اختیار نہیں دیتا۔ بلکہ ان کے نزدیک بھی لڑکی کی مصلحتِ ظاہرہ، راجحہ اور معتبرہ کا خیال ضروری ہے۔ اگر والد اپنی نابالغ لڑکی کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوئے محض اپنے ذاتی دنیاوی مفادات کی خاطر اس کا نکاح کر دیتا ہے تو جمہور کے نزدیک بھی یہ نکاح نہیں ہوگا۔
قدر مشترک: دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ نابالغ لڑکی کے مفاد اور مصلحت کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ اختلاف صرف راستے کا ہے۔
تطبیق کی راہ: ایک متوازن حل
ان دونوں فریقوں کے اقوال میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے:
- اول: نابالغ لڑکی کا نکاح اس کا والد صرف اس شرط پر کر سکتا ہے کہ اس میں کوئی مصلحتِ ظاہرہ، راجحہ اور معتبرہ واضح اور علانیہ موجود ہو۔
- دوم: اگر ایسی کسی مصلحت کے بغیر والد نکاح کر دے تو لڑکی اپنے حقِ تلفی کے تحت بالغ ہونے پر نکاح فسخ کر سکتی ہے۔
- سوم: والد کو جو اختیار دیا گیا تھا، وہ پدرانہ شفقت اور خیرخواہی کی بنا پر تھا۔ سوءِ اختیار پر وہ اس حق سے محروم ہو جائے گا۔
- چہارم: لڑکی کو بلوغت کے بعد رضامندی کے اقرار سے پہلے ہی انکار کرنا ہوگا۔
- پنجم: شریعت نے لڑکی کے لیے اولیاء کا حق رکھا ہے، اس لیے وہ موجودہ اولیاء کے مشورے سے فیصلہ کرے۔
حضرت عمرؓ کا طریقہ کار: بدلتے حالات میں احکام کی تبدیلی
اگر کسی دور یا علاقے میں اسلامی حکومت محسوس کرے کہ نابالغ لڑکیوں کی شادی میں انصاف اور حقوق کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے تو وہ اس پر باقاعدہ پابندی لگا سکتی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زمانے کے حالات کے پیش نظر متعدد ثابت شدہ امور میں ترمیم کرتے ہوئے پابندیاں لگائی تھیں:
- ام ولد کی فروخت پر پابندی - حالانکہ دورِ نبوی اور دورِ صدیقی میں اس کی خرید و فروخت ہوتی رہی۔
- مجلس واحد میں طلاقِ ثلاثہ سے رجوع پر پابندی - حالانکہ پہلے اس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
یہ فیصلے صحابہ کرام کی مشاورت سے ہوئے، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات کے تحت مسائل کے احکامات قرآن و سنت کی روشنی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جو اسلام کو ایک آفاقی، عالم گیر اور قیامت تک کے لیے دینِ حق ثابت کرتی ہے۔
خلاصہ کلام: نتیجہ اور ترجیح
اس پوری تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ:
- اول: فریقین کا مطمح نظر ایک ہی ہے - نابالغ لڑکی کے مفادات اور مصلحت کا تحفظ۔
- دوم: فریق دوم کے دلائل سے یہ بات خوب واضح ہو جاتی ہے کہ ولایتِ اجبار غیر مشروط نہیں ہو سکتی۔
- سوم: فریق اول نے جو واقعہ پیش کیا ہے (نکاح حضرت عائشہؓ)، اس میں بھی مصلحت کا اصول کارفرما ہے۔
- چہارم: مصلحتِ راجحہ کا فیصلہ عاقلہ بالغہ لڑکی ہی کر سکتی ہے، کیونکہ یہ اس کی پوری زندگی کا معاملہ ہے۔
- پنجم: اگر لڑکی کو نقصان کا خطرہ ہو تو فریق دوم کے نزدیک نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، جبکہ فریق اول کے نزدیک اسے حقِ تنسیخ حاصل ہوگا۔
حتمی رائے: راجح قول فریق دوم کا ہے کہ نابالغ بچی کے نکاح میں والد کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں، البتہ شدید مصلحت کی صورت میں عدالت کی اجازت سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر کسی صورت میں نکاح ہو جائے تو لڑکی کو بالغ ہونے پر حقِ فسخ حاصل ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
© 2026 | تحقیقی مقالہ | ڈاکٹر سید محبوب الرحمان شاہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں