Breaking

پیر، 1 مارچ، 2021

جرابوں پر مسح كي روايات اور صحابہ کے طريقہ کارکا جائزہ









وضو میں پاؤں دھونا فرض ہے، البتہ اسلام نے بعض خاص صورتوں میں سہولت بھی دی ہے، جن میں موزوں (چمڑے کے جراب نما جوتے) پر مسح کی اجازت شامل ہے۔ اسی سے جڑا ہوا ایک اہم فقہی مسئلہ جرابوں پر مسح کا ہے۔ اس مسئلے میں فقہائے اسلام کے درمیان قدیم زمانے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ اختلاف کسی ضد یا تنگ نظری کی وجہ سے نہیں بلکہ دلائل کے فہم اور ان کے وزن کے فرق کی بنا پر ہے۔

اس مضمون میں سادہ اور عام فہم انداز میں جرابوں پر مسح سے متعلق مرفوع احادیث کا تحقیقی جائزہ، صحابہ کرامؓ کے ثابت شدہ عملی طریقے ،فقہائے کرام کے مختلف اقوال  اور ان کے دلائل کی روشنی میں ایک متوازن علمی نتیجہ پیش کیا جائے گا

فقہائے اسلام کے اقوال

1. جن جرابوں پر مسح کے جواز پر اتفاق ہے

تمام فقہائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ:اگر جرابیں جوتوں کے اندر ہوں اور جوتے پاک ہوں، تو ان پر مسح جائز ہے۔

یا اگر جرابوں کے اوپر اور نیچے چمڑا لگا ہو (یعنی وہ موزوں کی شکل اختیار کر لیں) تو ان پر مسح بلا اختلاف درست ہے۔

اختلاف دراصل عام اونی یا سوتی جرابوں پر مسح کے بارے میں ہے۔

2. امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کا موقف

امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک:عام جرابوں پر مسح جائز نہیں۔الا یہ کہ وہ جرابیں جوتوں کے اندر ہوں یا ان کے اوپر نیچے چمڑا لگا ہو۔ان کے نزدیک محض کپڑے یا اون کی جرابیں موزوں کے حکم میں نہیں آتیں۔

3. امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا موقف

ان حضرات کے نزدیک ایسی جرابوں پر مسح جائز ہے جو:موٹی اور مضبوط ہوں

بغیر باندھے پاؤں پر قائم رہیں ، ان میں کم از کم تین میل تک چلا جا سکے اور جن سے پاؤں کا رنگ یا جلد نظر نہ آئے

یہ بات بھی تاریخی طور پر ثابت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنی زندگی کے آخری دور میں اسی رائے کی طرف رجوع فرما لیا تھا۔

4. ظاہریہ اور بعض معاصر حنبلی علماء کا موقف

ظاہریہ فقہ کے علماء اور جدید دور کے بعض حنبلی علماء کے نزدیک:ہر قسم کی جرابوں، خواہ موٹی ہوں یا پتلی، پر مسح جائز ہے۔

ان کا بنیادی اعتماد احادیث کے بجائے صحابہ کرام کے عملی تعامل پر ہے، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

جرابوں پر مسح کی مرفوع احادیث کا تحقیقی جائزہ

بعض فقہاء نے عام جرابوں پر مسح کے جواز کو اس بنیاد پر قبول نہیں کیا کہ:

نبی کریم ﷺ سے جرابوں (جوارب) پر مسح کے بارے میں کوئی حدیث ایسی نہیں جو بلا اختلاف صحیح ہو۔

اس باب میں کل چار روایات ملتی ہیں، مگر محدثین کے نزدیک وہ معیارِ صحت پر پوری نہیں اترتیں۔

پہلی روایت: حضرت مغیرہ بن شعبہؓ

یہ روایت سنن ابی داؤد میں ہے، مگر:امام سفیان ثوریؒ نے اسے ضعیف کہا اور امام احمد بن حنبلؒ نے اسے منکر قرار دیا جب کہ امام بیہقیؒ نے بھی اس کی تضعیف نقل کی ہے

اگرچہ علامہ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا[1]، مگر جمہور محدثین کے نزدیک یہ روایت قابلِ استدلال نہیں۔

دوسری روایت: حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ

امام بیہقیؒ کے مطابق:یہ روایت نہ متصل ہے اور نہ مضبوط اس میں راوی ضحاک بن عبدالرحمن کا ابو موسیٰؓ سے سماع ثابت نہیں اور راوی عیسیٰ بن سنان ضعیف ہیں [2]اس لیے یہ روایت بھی حجت نہیں بنتی۔

تیسری روایت: حضرت بلالؓ

اس روایت میں:یزید بن ابو زیاد نے جرابوں کا ذکر کیا ہے

جبکہ حضرت بلالؓ کے دیگر تمام شاگرد صرف موزوں پر مسح کا ذکر کرتے ہیں

اسی بنا پر:ابن حجرؒ نے انہیں ضعیف کہا اور امام ابو حاتمؒ نے کہا: قوی نہیں

امام ابو زرعہؒ نے فرمایا: روایت لکھی جا سکتی ہے مگر حجت نہیں

چوتھی روایت: حضرت ثوبانؓ

اس روایت میں:راشد بن سعد کا حضرت ثوبانؓ سے سماع ثابت نہیں اور امام ابو حاتمؒ، دارقطنیؒ اور ابن حزمؒ سب نے اسے ضعیف قرار دیا[3]

نتیجہ (حدیثی اعتبار سے)

ان تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہنبی کریم ﷺ سے جرابوں پر مسح کے بارے میں کوئی روایت ایسی نہیں جو بلا اختلاف صحیح ہو

اسی وجہ سے بعض فقہاء نے ان روایات سے استدلال کو قبول نہیں کیا

صحابہ کرامؓ کا عملی طریقہ (اصل بنیاد)

اب ہم اس مسئلے کے سب سے مضبوط پہلو کی طرف آتے ہیں، اور وہ ہے صحابہ کرامؓ کا عمل۔

مصنف ابن ابی شیبہ میں متعدد صحیح اسناد کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ:

حضرت علیؓ

حضرت انس بن مالکؓ

حضرت عقبہ بن عمروؓ

حضرت ابو مسعودؓ

وضو میں جرابوں پر مسح کرتے تھے۔ یہ کوئی وقتی عمل نہیں بلکہ ان کا معمول تھا۔

اسی طرح امام ابو داؤدؒ لکھتے ہیں کہ:علیؓ، ابو مسعودؓ، براء بن عازبؓ، انس بن مالکؓ، ابو امامہؓ، سہل بن سعدؓ اور عمرو بن حریثؓ سے جرابوں پر مسح ثابت ہے

حضرت عمرؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے بھی یہی عمل منقول ہے

فقہی وزن اور اجماع کا پہلو

علامہ ابن قدامہؒ لکھتے ہیںچونکہ صحابہ کرامؓ نے جرابوں پر مسح کیا اور ان کے زمانے میں اس پر کسی صحابی کا اختلاف سامنے نہیں آیا، اس لیے یہ عملی اجماع ہے۔[4]

یہ بات اصولِ فقہ کے مطابق بہت وزن رکھتی ہے، کیونکہ:صحابہ دین کے عملی فہم میں سب سے معتبر ہیں  ان کے اجتماعی عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

خلاصہ اور  نتیجہ

اس پورے تحقیقی جائزے سے درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:

عام جرابوں پر مسح کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے

مرفوع احادیث اس باب میں قطعی اور غیر مختلف فیہ نہیں

صحابہ کرامؓ کا جرابوں پر مسح کرنا صحیح اور ثابت شدہ ہے

ایسے سخت شرائط لگانا جن کی تردید خود صحابہ کے عمل سے ہو، زیادہ مضبوط معلوم نہیں ہوتیں

لہٰذا ایک مضبوط علمی رائے یہ ہے کہ: جرابوں پر مسح صحابہ کرام کے تعامل سے ثابت ہے، اور اس پر نکیر یا سختی نہیں ہونی چاہیے۔

یہ مسئلہ وسعت اور آسانی کا ہے، نہ کہ شدت اور نزاع کا۔

 حوالہ جات 

[1] صحيح وضعيف سنن النسائي  1/269

[2] السنن الكبرى للبیہقی  مجلس دائرة المعارف النظامية   حيدر آباد   الطبعة : الأولى ـ 1344 هـ  ج 1 ص 284،285

[3] تهذيب التهذيب   3/226

[4] المغنی 1/181


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Responsive Ads Here
Responsive Ads Here