Breaking

جمعرات، 11 مارچ، 2021

صبح کی باجماعت نماز کا بہترین وقت کون سا ہے

 


صبح کی باجماعت نماز  ہر قسم کے  حالات میں اندھیرے میں اول وقت پڑھنا بھی افضل نہیں  اورنہ ہی مطلق  روشنی میں ہر حال میں  پڑھنا زیادہ بہتر  اور افضل ہے فقہاء  کرام میں اس بارے میں اختلاف ہے

مالکیہ شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک صبح  کی نماز باجماعت اندہیرے میں افضل ہے  جب کہ اس کے برعکس حنفیہ کے نزدیک صبح کی روشنی میں  زیادہ بہتر  اور قابل اجر کام ہے

شافعی اور حنبلی مسلک کی دلیل

حضور ﷺ اور صحابہ کا  عمل  ہے  جو متعد د صحیح روایات میں موجود ہے

مغنی ابن قدامہ نے تو  صحابہ کرام کی ایک طویل  لسٹ گنوادی  جس میں حضرت ابو بکر و عمر  کے علاوہ متعدد صحابہ شامل ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان تمام حضرات کا ایک افضل عمل چھوڑ کا غیر بہتر کام کرنا  تو محال ہے

وبهذا قال مالك، والشافعي وإسحاق. وروي عن أبي بكر، وعمر، وابن مسعود، وأبي موسى وابن الزبير، وعمر بن عبد العزيز، ما يدل على ذلك. قال ابن عبد البر: صح عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – وعن أبي بكر وعمر وعثمان، أنهم كانوا يغلسون، ومحال أن يتركوا الأفضل، ويأتوا الدون، وهم النهاية في إتيان الفضائل    المغني لابن قدامة 1/286

حنفی مسلک کی دلیل

احناف اس حدیث استدلال کرتے ہیں  جس میں آپ ﷺ نے صبح روشن کرکے نماز پڑھنے کا فرمایا ہے

یہ احادیث ترمذی ،نسائی طبرانی اورصحیح ابن حبان میں درج ذیل الفاظ اور اسناد کے ساتھ موجود  ہے

حدثنا هناد، قال: حدثنا عبدة، عن محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أسفروا بالفجر، فإنه أعظم للأجر  ترمذی 154

أخبرنا أحمد بن علي بن المثنى حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن بن عجلان عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد

عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: “أصبحوا بالصبح فإنكم كلما أصبحتم بالصبح كان أعظم    صحیح ابن حبان 1589

وأخرجه النسائي 1/372، والطبراني [4294] من طريق أبي غسان محمد بن مطرف، حدثني زيد بن أسلم، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبي، عن رجال من قومه من الأنصار مرفوعا بلفظ: “ما أسفرتم بالفجر، فإنه أعظم للأجر” وإسناده صحيح كما قال الحافظ الزيلعي في “نصب الراية” 1/238.

اس کے علاوہ متعدد صحابہ کرام سے بھی باقاعدہ صبح کی روشنی میں نماز پڑھنا ثابت ہے

یہ رویات مصنف ابن ابی شیبہ ،اوسط لابن منذر اور طحاوی میں درج ذیل الفاظ کے ساتھ موجود ہیں

عن خرشة بن الحر قال: كان عمر بن الخطاب يغلس بصلاة الصبح، ويسفر، ويصليها بين ذلك.

أخرجه ابن أبي شيبة (1/ 322) وابن المنذر (2/ 378) من طريق أبي حصين عن خرشة بن الحر به

عن علي بن ربيعة قال: سمعت عليا يقول لقنبر: أسفر أسفر يعني بصلاة الغداة.

أخرجه وابن أبي شيبة (1/ 321) والطحاوي (1/ 180) وابن المنذر (1/ 378) من طريق سعيد بن عبيد الطائي عن علي بن ربيعة به

عن جبير بن نفر قال: صلى بنا معاوية بغلس فقال أبو الدرداء أسفروا بهذه الصلاة فهو أفقه لكم.

أخرجه ابن أبي شيبة (1/ 321) وابن المنذر (2/ 378) من طريق عبد الرحمن بن مهدي عن معاوية بن صالح عن أبي الزاهرية عن جبير بن نفير به

ان روایات میں  حضرت عمر حضرت علی حضرت ابو الوالدرداء  سے روشنی میں صبح کی نماز  کا ثبوت ملتا ہے

ان تمام روایات کا جب جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ حضور ﷺ نے امت کو کسی صبح کی نماز باجماعت پڑھنے  کے لیے مخصوص وقت کی ایسی جامد اور اٹل پابندی لاگو ہی نہیں کی جس سے امت کو دقت اور تکلیف ہو بلکہ اپنے عمل اور قول دونوں  سے یہ ثابت کرکے دکھایا کہ جس طریقہ میں نمازیوں کی اکثریت کو زیادہ آسانی اور سہولت ہو اور جماعت میں تعداد زیادہ ہو سکے وہی وقت افضل اور بہترین  ہے

چونکہ نبی کریم ﷺ کے دورمیں تمام صحابہ کرام کی اکثریت تہجد گزار تھی  اس لیے ان کے لیے آسانی اسی میں تھی کہ تہجد کا وقت ختم ہوتے ہی جلد ہی صبح کی نماز پڑھ لی جائے چنانچہ آپ ﷺ خود پوری زندگی ایسا ہی کیا البتہ کبھی کبھی صحابہ کرام کو نماز کا  اول و آخر وقت بتانے کے لیے آخر وقت میں بھی نماز پڑھ لی تھی

لیکن آپ ﷺ نے امت کے لیے جو طریقہ کار بتایا اس میں  قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کی آسانی ملحوظ رکھی گئی ہے کہ اس وقت صبح کی نماز باجماعت پڑھی جائے جب زیادہ سے زیادہ نمازی شامل ہوسکیں اور یہ خوب صبح کرنے پر ہی ممکن ہوسکتا ہے

تاہم اگر کسی موقع پر کچھ مخصوص ایام  کے لیے یاکسی خاص مقام پر لوگوں کو ااندھیرے میں نماز پڑھنے میں زیادہ آسانی محسوس ہو تو “صبح روشن کرکے نماز پڑھو” والی حدیث کے باوجود اندھیرے میں نماز صبح پڑھنا زیادہ باعث اجر و ثواب ہوگا کیونکہ اس میں اکثر مسلمانوں کو آسانی اور سہولت فراہم ہورہی  ہوگی.

  جیسا کہ رمضان کے دنوں میں اگر حنفی ڈٹ جائیں کہ ہم نے تو نماز روشنی میں ہی پڑھنی ہے تو یہ دینی مزاج کے ہی خلاف ہوگا کیونکہ  الدین یسر ( دین میں آسانی ہے ) اور یسروا ولا تعسرو( آسانی پیدا کرو مشکلات پیدا نہ کرو ) والے فرامین نبوی کے خلاف ایسا عمل ہوگا جس سے کئی لوگ باجماعت سے محروم ہوسکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ وہ سحری کھاکر سوجائیں

خلاصہ کلام

باجماعت نماز فجر کا افضل وقت نہ ہی اندھیرے میں نماز پڑھنا ہے اور نہ ہی روشنی میں بلکہ جس میں لوگوں کو زیادہ آسانی اسی وقت نماز باجماعت کا  زیادہ ثواب ہوگا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Responsive Ads Here
Responsive Ads Here